ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ڈونلڈ ٹرمپ کلیدی ریاستوں میں پسپا!

ڈونلڈ ٹرمپ کلیدی ریاستوں میں پسپا!

Tue, 23 Aug 2016 18:05:22    S.O. News Service

واشنگٹن ،23اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکا میں رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکی ہے مگر موجودہ انتخابی مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے نامزد کردہ صدارتی امیدار ڈونلڈ ٹرمپ ماضی کی نسبت پہلی بار نارتھ کیرولینا، جارجیا، انڈیانا اور میزوری جیسی ریاستوں میں پسپا ہو رہے ہیں۔انہوں نے ابھی تک ان ریاستوں میں مہم چلانے کے لیے ٹی وی پر ایک ڈالر بھی پروپیگنڈے پر خرچ نہیں کیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ ٹرمپ کو ان کلیدی ریاستوں کی جانب سے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔تاہم توقع ہے کہ رواں ماہ یا اگلے ایک ماہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کوئی نئی قلا بازی کھائیں گے اور خود کو ان ریاستوں میں بھی نمایاں کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم پر ٹی وی چینلوں پر اس لیے رقوم خرچ نہیں کررہے کیونکہ انہیں یہ مقصد پیسے لگانے کے بغیر بھی حاصل ہو رہا ہے۔ وہ کوئی ایک آدھ متنازع بیان جاری کرتی ہے جسے اگلے چوبیس گھنٹے تک امریکی ذرائع ابلاغ اس تواتر کے ساتھ نشر کرتے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے اشتہارات چلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔گوکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے اب تک 12ملین ڈالر کی رقم ٹرمپ کی حمایت میں ذرائع ابلاغ میں اشتہارات اور پروپیگنڈے پر صرف کی ہے۔ ان کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کی صدارتی امیدوارہ ہیلری کلنٹن اب تک 61ملین ڈالر کی رقم پھونک چکی ہیں۔ 43ملین ڈالر اس کے علاوہ ہیں جو ہیلری کے حامیوں کی جانب سے ان کی حمایت میں پروپیگنڈے کے لیے خرچ کیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران صرف جولائی میں حامیوں سے 80ملین ڈالر کی رقم جمع کی۔ ان کے مقربین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو ٹی وی اشتہارات پر رقم لگانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پیسے خرچ کیے بنا ہی میڈیا پر چھائے رہتے ہیں۔
البتہ اس تاثر کی نفی نہیں کی جاسکتی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کلیدی نوعیت کی ریاستوں میں اپنا ووٹ بنک بڑھانے کے لیے میڈیا پر اشتہارات کی مد میں پیسہ خرچ کریں گے۔ تاہم وہ یہ فیصلہ انتخابات کے قریب آنے پرہی کریں گے۔ ماضی کے ادوار میں فلوریڈا، اوھایو، پنسلوینیا، میشیگن اور نیو ھمشائر ریاستیں کلیدی قرار دی گئی تھیں اور ان ریاستوں میں کامیاب ہونے والے امیدوار کی کامیابی کو یقینی سمجھا گیا تھا۔
کیلیفورنیا اور نیویارک میں حالیہ عرصے میں ڈیموکریٹس کی اکثریت رہی ہے جب کہ ٹکساس، جارجیا اور ایریزونا میں ری پبلیکن کو زیادہ پذیرائی حاصل رہی۔ امریکا میں صدارتی انتخابات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف 10ریاستیں کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار کے لیے اہمیت کی حامل ہیں۔ دیگر چالیس ریاستوں کی اتنی اہمیت نہیں جتنی کہ ان دس ریاستوں کی بتائی جاتی ہے۔تازہ سروے جائزوں کے مطابق اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کی پوزیشن کافی مضبوط ہے اور وہ ڈنلڈ ٹرمپ سے کلیدی ریاستوں میں 10نقات آگے ہیں۔ فلوریڈا جیسی ریاست میں ہیلری کو ٹرمپ پر 9پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، نیو ہمشائر میں 15پوائنٹس، نارتھ کیرولینا میں 9جب کہ مشیگن، ویسکونسن، کولوراڈو اور ورجینیا میں ہیلری کو 10پوانٹ کی برتری ہے۔انہی تمام ریاستوں میں ہیلری کو مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی بھی بھاری حمایت حاصل ہے۔ افریقی باشندں کی حمایت کا تناسب بھی ایک اور تین کے درمیان ہے جب کہ دیگر اقلیتوں کی 70 فی صد نمائندگی ہیلری کی حمایت کررہی ہے۔جب سے امریکی اور عالمی اخبارات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے روس نوازسابق یوکرائنی صدر ویکٹوز ریانا کوفیچ کی طرف سے 13ملین ڈالر کی رقم حاصل کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں ٹرمپ کی عوامی حمایت میں مزید کمی آگئی ہے۔


Share: